5 اشعار

ضرور بھول ہوئی ہے کہیں سنانے میں

Zarur bhool hui hai kahin sunane mein

ضرور بھول ہوئی ہے کہیں سنانے میںیہ واقعہ تو کہیں بھی نہ تھا فسانے میں

مرے لیے ہی ہوا اہتمام جشن مگرجگہ نہ مل سکی مجھ کو ہی شامیانے میں

فریفتہ ہے ہر اک شخص اپنی صورت پرمیں آ گیا ہوں یہ کیسے فریب خانے میں

اندھیرے اور گھنے حد سے بھی گھنے ہوں گےوہ چوک اب کے ہوئی ہے دیا جلانے میں

بڑے گھروں میں رہی ہے بہت زمانہ تکخوشی کا جی نہیں لگتا غریب خانے میں

— نعمان شوق