5 اشعار

نہ سر نہ تال نہ یہ ساز سے ہی روشن ہیں

Na sar na taal na ye saaz se hi roshan hain

نہ سر نہ تال نہ یہ ساز سے ہی روشن ہیںہمارے سینے تو الفاظ سے ہی روشن ہیں

لگی ہیں آنکھیں ترے جسم کے ہر اک تل پریہ خوش نصیب ترے راز سے ہی روشن ہیں

بغاوتوں کے یہ پیغامبر رہیں آباداندھیری رات کے آغاز سے ہی روشن ہیں

ترے بدن میں خزانے ہیں سب معانی کےاگرچہ لمس کے اعجاز سے ہی روشن ہیں

چمک بتانے لگی ہے کسی کے شعروں کیتری نگاہ سخن ساز سے ہی روشن ہیں

— نعمان شوق