7 اشعار

ہیں لاپتہ زمانے سے سارے کے سارے خواب

Hain laapata zamane se sare ke sare khwab

ہیں لاپتہ زمانے سے سارے کے سارے خوابکس کے بدن سے لپٹے ہوئے ہیں ہمارے خواب

میں شام کی بلائیں لوں یا بوسہ صبح کابکھرے پڑے ہیں رات کے دونوں کنارے خواب

تم چھت پہ آتے جاتے رہوگے اسی طرحتو دیکھنے لگیں گے سبھی کے ستارے خواب

مانا سجا سنوار کے بھیجے گئے ہو تمآئینے بھی تو دیکھ رہے ہیں تمہارے خواب

اپنی تو ساری عمر پس و پیش میں کٹیسو بار زیب تن کئے سو بار اتارے خواب

نظریں بھی کیا گزارتے ہم بوریا نشیںاس نے بھی سرفراز کئے سب گزارے خواب

مشکل یہ آ پڑی ہے کہ کس دیس جائیں گےہم تار تار لوگ لیے اتنے سارے خواب

— نعمان شوق