6 اشعار

کسی کے سائے کسی کی طرف لپکتے ہوئے

Kisi ke saaye kisi ki taraf lapakte hue

کسی کے سائے کسی کی طرف لپکتے ہوئےنہا کے روشنیوں میں لگے بہکتے ہوئے

یہ رنگ رنگ کے پیکر یہ تیز موسیقیہر اک بدن پہ کئی زخم ہیں تھرکتے ہوئے

بہت سے لوگ تھے رقصاں مگر الاؤ کے گردکسی کو دیکھا نہیں اس طرح دمکتے ہوئے

یہ حق پرستوں کی بستی اجڑ نہ جائے کہیںمجھے ملے ہیں کئی آئنے سسکتے ہوئے

یہ کون سامنے بیٹھا ہے خوب رو ایساملال ہونے لگے آنکھ بھی جھپکتے ہوئے

اب ایسے خوف کے سائے میں خواب دیکھیں کیایہاں تو آنکھ بھی ڈرنے لگی جھپکتے ہوئے

— نعمان شوق