6 اشعار

ستارہ ساز یہ ہم پر کرم فرماتے رہتے ہیں

Sitara-saaz yeh hum par karam farmate rehte hain

ستارہ ساز یہ ہم پر کرم فرماتے رہتے ہیںاندھیری رات میں جگنو سا کچھ چمکاتے رہتے ہیں

سنا ہے شور سے حل ہوں گے سارے مسئلے اک دنسو ہم آواز کو آواز سے ٹکراتے رہتے ہیں

جہاں میں امن کیسے پھیلتا ہے کیسے پھیلے گاوہ سب کو تیر سے تلوار سے سمجھاتے رہتے ہیں

یہ کیسی بھیڑ میرے گرد ہے گھبرا گیا ہوں میںتماشہ دیکھنے والے تو آتے جاتے رہتے ہیں

بڑا دلچسپ کاروبار اب کے سال چل نکلاہوس کے آئینے کو عشق سے چمکاتے رہتے ہیں

اسی دنیا سے دیواریں اٹھانا ہم نے سیکھا ہےہم اس دنیا کو ہر دیوار سے ٹکراتے رہتے ہیں

— نعمان شوق