8 اشعار

ہم تشدد کے استعارے نہیں

Hum tashaddud ke ista'are nahin

ہم تشدد کے استعارے نہیںکیا کوئی سانپ کو بھی مارے نہیں

منتیں کی تو تھیں یزیدوں سےمیں ندی ہوں مرے کنارے نہیں

ہاتھ میں ہاتھ دے تو آؤں میںڈوبنا ہے تو پھر پکارے نہیں

اس سے خود فاصلہ بڑھائے ہیںہار جیتی ہے ہم نے ہارے نہیں

تم بنے ہو بڑی محبت سےرنگ نے خود ہی روپ دھارے نہیں

اب یہ سیلاب روکو قتالویہ مرے آنسوؤں کے دھارے نہیں

کشتیاں میں جلا چکا ہوں مگراس کو سمجھاؤ یوں پکارے نہیں

یہ ہی ثابت کرو کہ سو جائیںہو کسی اور کے ہمارے نہیں

— نعمان شوق