7 اشعار

اک آن میں ہوئی اوجھل زمیں نگاہوں سے

Ik aan mein hui ojhal zameen nigahon se

اک آن میں ہوئی اوجھل زمیں نگاہوں سےکوئی پکارنے والا نہیں نگاہوں سے

خدا گناہ کی لذت کو برقرار رکھےنہ دیکھ ایسے مجھے خشمگیں نگاہوں سے

غزل کے حسن کو درکار ناظرین نہیںزیادہ کام نہ لیں سامعیں نگاہوں سے

تمام پھول مجھے رنگ سے لبھاتے تھےتمام روشنیاں یاد تھیں نگاہوں سے

شروع عشق میں کم پڑ گئے تھے جب الفاظکئی زبانیں تراشی گئیں نگاہوں سے

میں آسمان پہ تھا تم کو یاد تو ہوگامجھے اتارا گیا بعد ازیں نگاہوں سے

مرے وہ شعر بھی آئے پسند اس کو واہچھپا رکھا تھا جنہیں نکتہ بیں نگاہوں سے

— نعمان شوق