8 اشعار

سہمے گنبد اور کبوتر رات بھر

Sehme gumbad aur kabootar raat bhar

سہمے گنبد اور کبوتر رات بھرسسکیاں لیتے ہیں مل کر رات بھر

جسم کی سب خانقاہوں میں سماعاور سڑکوں پر قلندر رات بھر

میری آنکھوں میں اداسی بھر گئےبارشوں میں بھیگتے گھر رات بھر

اب نہ کر ان مجلسی راتوں کا ذکراب جگاتا ہے کوئی ڈر رات بھر

چاند کو میں کہہ دیا کل صاف صافکون دیکھے ایک منظر رات بھر

کاش میری صبح اس کے ساتھ ہوجو رہا ہے میرے اندر رات بھر

اک جھلک دکھلا کے چھپ جاتے ہو تماور تڑپتا ہے سمندر رات بھر

کسمساتا جاگتا سوتا رہارنگ میں ڈوبا وہ پیکر رات بھر

— نعمان شوق