5 اشعار

اک چراغ اور اجالے میں نہ رکھا جائے

Ik chiragh aur ujale mein na rakha jaaye

اک چراغ اور اجالے میں نہ رکھا جائےہم کو انصاف کے دھوکے میں نہ رکھا جائے

مجھ کو جس شخص کا نشہ ہے اسے ڈھونڈھ کے لاؤمجھ کو ان سانپوں کے نرغے میں نہ رکھا جائے

اک حقیقت سے مجھے پردہ اٹھانا ہے سو ابمیرے کردار کو قصے میں نہ رکھا جائے

لوگ بیتاب ہیں دنیا کو جلانے کے لئےاس قدر سوز بھی باجے میں نہ رکھا جائے

ہم سے لفظوں میں نہ کی جائے گی معنی کی تلاشحسن اتنا ہے تو پردے میں نہ رکھا جائے

— نعمان شوق