6 اشعار

تیز آندھیوں کے ساتھ گزارا ہوا مرا

Tez aandhiyon ke saath guzara hua mera

تیز آندھیوں کے ساتھ گزارا ہوا مراپہنا زمیں نے جسم اتارا ہوا مرا

دیکھ آسمان تیرے ستارے کہیں نہیںلیکن چمک رہا ہے سنوارا ہوا مرا

تم بھی پلٹ کے آؤ گے وحشی صدا کے ساتھرکتا ہے کتنی دیر پکارا ہوا مرا

اک قتل سے نمٹ کے بہت خوش ہوا تھا میںپھر مجھ میں جی اٹھا وہی مارا ہوا مرا

تیرے سوا یقین کے لائق کوئی نہیںاس اعتماد میں بھی خسارا ہوا مرا

مدت کے بعد خود پہ ہوا اپنا اختیارجو کچھ جہان میں تھا تمہارا ہوا مرا

— نعمان شوق