6 اشعار

انسانیت کے زعم نے برباد کر دیا

Insaniyat ke za'am ne barbaad kar diya

انسانیت کے زعم نے برباد کر دیاپنجرے میں آ کے شیر کو آزاد کر دیا

اپنے ہی سونے پن کا مداوا نہ کر سکےکہنے کو ہم نے شہر کو آباد کر دیا

جی بھر کے قتل عام کیا پہلے ہر طرفپھر اس نے مملکت کو خدا داد کر دیا

دل سے کوئی علاقہ نہ تھا دور دور تکتیشہ تھما کے ہاتھ میں فرہاد کر دیا

ہر متقی کو اس سے سبق لینا چاہیئےجنت کی چاہ نے جسے شداد کر دیا

ہاتھوں میں اس کا ہاتھ لیے سوچتے رہےتھا کون جس نے عشق میں برباد کر دیا

— نعمان شوق