6 اشعار

اس بار انتظام تو سردی کا ہو گیا

Is baar intizam to sardi ka ho gaya

اس بار انتظام تو سردی کا ہو گیاکیا حال پیڑ کٹتے ہی بستی کا ہو گیا

اس بار سنگسار ہوئے بے گناہ لوگاک راستہ بدن کی بحالی کا ہو گیا

جزیہ وصول کیجئے یا شہر اجاڑیےاب تو خدا بھی آپ کی مرضی کا ہو گیا

مٹی کے اک دیے کی مجھے بد دعا لگیلو دے کے ایک بار میں مٹی کا ہو گیا

جلتے مکان دیکھ کے لوگ اتنے خوش ہوئےپل میں سماں ہی جیسے دوالی کا ہو گیا

نکلا نہ میں بھی گھر سے سنی میں نے بھی وہ چیخکتنا بڑا علاقہ سپاہی کا ہو گیا

— نعمان شوق