6 اشعار

سب اپنے اپنے خداؤں میں جا کے بیٹھ گئے

Sab apne apne khudaon mein ja ke baith gaye

سب اپنے اپنے خداؤں میں جا کے بیٹھ گئےسو ہم بھی خوف کی چادر بچھا کے بیٹھ گئے

مجھے اس آگ کی تفصیل میں نہیں جاناجنہیں بنانی تھیں خبریں بنا کے بیٹھ گئے

کبوتروں میں یہ دہشت کہاں سے در آئیکہ مسجدوں سے بھی کچھ دور جا کے بیٹھ گئے

ہمارا قہر ہماری ہی جان پر ٹوٹاتمام خاک بدن کی اڑا کے بیٹھ گئے

کل آفتاب کو اس طرح ڈوبتے دیکھاہم اپنے جلتے دیوں کو بجھا کے بیٹھ گئے

یہاں بھی جھانکتی رہتی تھیں شک بھری نظریںسو ہم بھی روح پہ قشقہ لگا کے بیٹھ گئے

— نعمان شوق