8 اشعار

عشق دل میں کئی جہانوں کا

Ishq dil mein kayi jahanon ka

عشق دل میں کئی جہانوں کامیں طلب گار ہوں زمانوں کا

خواہشوں کو اڑان بھرنا ہےختم ہے کھیل آسمانوں کا

لفظ کاٹے گئے اگائے گئےکیا بھلا ہو گیا کسانوں کا

تم نے مالک بنا دیا خوش باشجسم کے بے بہا خزانوں کا

موت نقشہ بنائے بیٹھی ہےشہر کے آخری مکانوں کا

دیر تک نغمگی برستی رہیتھم گیا سلسلہ اذانوں کا

رات میں آپ اور خاموشیوقت ہے آخری اڑانوں کا

دوستوں کو مرے پتہ تو ہےدشمنوں کے سبھی ٹھکانوں کا

— نعمان شوق