5 اشعار

کچھ ہمیں چھوٹ بھی مل جائے خرافات کی اب

Kuchh hamein chhoot bhi mil jaaye khurafaat ki ab

کچھ ہمیں چھوٹ بھی مل جائے خرافات کی ابہم جو مامور ہیں تائید پہ ہر بات کی اب

اپنی مصروفیت آپ اور بڑھاتے جائیںہم تو عرضی لئے جاتے ہیں ملاقات کی اب

ہجر کا چاند ضرورت سے زیادہ روشنرونقیں ایسے بڑھاؤ گے مری رات کی اب

ناچ کر تھک چکے سب تیرے خریدے ہوئے مورجھوٹ کی فصل کو امید ہے برسات کی اب

عدل کیا ملنا ہے کشکول بچا رہ جائےصرف زنجیر ہلاتے رہو خیرات کی اب

— نعمان شوق