6 اشعار

اتنی تعظیم ہوئی شہر میں عریانی کی

Itni ta'zeem hui shahr mein uriyani ki

اتنی تعظیم ہوئی شہر میں عریانی کیرات آنکھوں نے بھی جی بھر کے بدن خوانی کی

ناپ سکتا ہے کوئی سرد ہوا تیرے سوایہ جو خندق ہے مرے چار سو ویرانی کی

دل کو معزول کیا عشق سے تو نے لیکنخاک پہ رہ کے بھی سلطان نے سلطانی کی

سب اڑاتے ہیں مری سرد دماغی کا مذاقیعنی دنیا کو ضرورت ہے نگہبانی کی

پھول کون ایسے کھلاتا ہے مرے چاروں طرفدھوپ کی جن کو ضرورت نہ طلب پانی کی

دبدبہ بڑھتا گیا شہر میں خوشحالی کامل گئی داد مرے دشت کو ویرانی کی

— نعمان شوق