7 اشعار

وہ اپنے شہر فراغت سے کم نکلتا ہے

Woh apne shahr-e-faraghat se kam nikalta hai

وہ اپنے شہر فراغت سے کم نکلتا ہےنکل بھی آئے تو فرصت سے کم نکلتا ہے

میں خانقاہ کے باہر کھڑا ہوں مدت سےیہاں بھی کام عقیدت سے کم نکلتا ہے

فلک کی سیر کے پیغام آتے رہتے ہیںبدن ہی خاک کی دہشت سے کم نکلتا ہے

سنبھل سنبھل کے تو چلتا ہے وہ ستارہ بھیتمہاری جیسی نزاکت سے کم نکلتا ہے

میں ناپتا ہوں تو ہر بار رقبۂ افلاکمری نگاہ کی وسعت سے کم نکلتا ہے

ہمیشہ عشق کو ہی ماننی پڑی ہے ہارہمیشہ حسن ضرورت سے کم نکلتا ہے

یہ نفرتوں کو مٹانے کی ضد رہے باقیمگر یہ کام محبت سے کم نکلتا ہے

— نعمان شوق