5 اشعار

تھے اک خدا کے سامنے اتنے پسارے ہاتھ

The ek Khuda ke saamne itne pasaare haath

تھے اک خدا کے سامنے اتنے پسارے ہاتھاک دوسرے کی ڈور نہ آئی ہمارے ہاتھ

ساحل کی نرم ریت پہ کچھ دیر تو رکودریا مرا بدن ہے تو دونوں کنارے ہاتھ

رکھ کر ہمیں گھما دیا خواہش کے چاک پرتم نے الگ ہی ڈھنگ سے تھامے ہمارے ہاتھ

ناحق ہماری جان کا تم نے زیاں کیاپہلے بھی کم حسین نہیں تھے تمھارے ہاتھ

صحرا میں ہوں تو قیس برابر کھڑا ہواریت آنکھوں میں پڑے کہ اب آئیں ستارے ہاتھ

— نعمان شوق