9 اشعار

جھلک بھی مل نہ پائی زندگی کی

Jhalak bhi mil na paayi zindagi ki

جھلک بھی مل نہ پائی زندگی کیاسے جلدی پڑی تھی واپسی کی

بچاؤ اپنی جلتی بستیوں کوبہت تعریف کر لی روشنی کی

خداؤں سے بھی گہری چھن رہی ہےمرے جیسے فسادی آدمی کی

وہ بولے ہنستے ہنستے مرتے جاؤعجب یہ شرط ہے زندہ دلی کی

اندھیروں نے بھی چمکایا نہ ہم کوچراغوں نے بھی ہم سے دل لگی کی

لٹاتے ہو جو اتنا پیار مجھ پرتمہیں پہچان بھی ہے آدمی کی

کبھی فرصت ملے تو بات کرناضرورت ہے ذرا سی زندگی کی

کہیں یہ طنز تو مجھ پر نہیں ہےقسم کھاتے ہو ہر دم عاشقی کی

نئی مصروفیت پیدا کرے کونکسے فرصت ہے بندہ پروری کی

— نعمان شوق