7 اشعار

ٹلنے کا یوں فقیر نہیں ہے یہ عشق ہے

Talne ka yun faqeer nahin hai ye ishq hai

ٹلنے کا یوں فقیر نہیں ہے یہ عشق ہےیہ جو نئی غزل کی زمیں ہے یہ عشق ہے

دنیا میں کتنا حسن ہے مجھ کو نہیں پتہواللہ گر ذرا بھی کہیں ہے یہ عشق ہے

میں اس جہاں کا سب سے امیر آدمی ہوں یارتم نے بنا دیا ہے یقیں ہے یہ عشق ہے

مغرور جس کو تو نے کہا تھا وہ مر چکاقدموں میں دیکھ کس کی جبیں ہے یہ عشق ہے

ہم زاد ہے ازل سے مرا روح کائناتیہ میں ہوں دوسرا جو مکیں ہے یہ عشق ہے

کل جو ملا تھا میں ہوں وہی بوریا نشیںدنیا تمام زیر نگیں ہے یہ عشق ہے

اس شخص کو یقین دلائیں تو کس طرحہر شخص کو اگرچہ یقیں ہے یہ عشق ہے

— نعمان شوق