4 اشعار

جس کے آنے سے ہوا ہے دفعتاً پانی شراب

Jis ke aane se hua hai dafatan paani sharaab

جس کے آنے سے ہوا ہے دفعتاً پانی شرابیار یہ تو لگ رہی ہے جانی پہچانی شراب

جس نے تجھ کو چکھ لیا ہو اس کا نشہ پوچھ متجنتوں میں بھی نہ ملنے کی یہ نورانی شراب

میں کہا شہروں میں قلت اس قدر پانی کی ہےبول اٹھا کم ظرف حاصل ہے بہ آسانی شراب

کون ہو تم کس جہاں سے آئے ہو بتلاؤ توعکس پڑتے ہی ندی میں ہو گیا پانی شراب

— نعمان شوق