6 اشعار

اس کے سوا ہر ایک کی مشکل میں جان ہے

Us ke siwa har ek ki mushkil mein jaan hai

اس کے سوا ہر ایک کی مشکل میں جان ہےدراصل صرف بازوئے قاتل میں جان ہے

اک سچ بھی گر زبان سے نکلے تو لوگ باگچلا کے دوڑ پڑتے ہیں بسمل میں جان ہے

اس خود اذیتی کو محبت کہے گا کوناچھا ہوں میری جان کہ مشکل میں جان ہے

اس اک صدا کی گونج رہے گی گلی گلیزندہ رہے گا شہر کہ سائل میں جان ہے

زخمی شکار جان بچا کر نکل گیایعنی شکاریوں کی بھی مشکل میں جان ہے

سمجھا کے ہار ہار گیا جل پری کو میںاب بھی سمجھ رہی ہے کہ ساحل میں جان ہے

— نعمان شوق