6 اشعار

کس نے ہمارے شہر پہ ماری ہے روشنی

Kis ne hamare shehar pe maari hai roshni

کس نے ہمارے شہر پہ ماری ہے روشنیہر اک مکاں کے زخم سے جاری ہے روشنی

بچ بچ کے چل رہا ہوں ستاروں کی چال سےاب تک مرے حواس پہ طاری ہے روشنی

دل کو محبتوں سے کیا تو نے مالا مالخوش باش تیرگی میں اتاری ہے روشنی

اک رات ہر چراغ کی لو کاٹ دی گئیاور وہ بھی چپ رہے جنہیں پیاری ہے روشنی

لذت کو ایک حد پہ ٹھہرنے نہیں دیاتم نے بدن کے پار گزاری ہے روشنی

سایوں سے ڈر کے چیخ پڑے تھے یہی تو ہیںان کو بھی زعم ہے کہ ہماری ہے روشنی

— نعمان شوق