6 اشعار

وہ مجھ کو میں کسی کو منانے نکل گیا

Woh mujh ko main kisi ko manane nikal gaya

وہ مجھ کو میں کسی کو منانے نکل گیااک وقت تھا جو وقت سے پہلے نکل گیا

ماہ و نجوم کم ہوئے اسباب میں مرےپھر ڈر کا آسمان بھی دل سے نکل گیا

نازک بہت تھا اس کی گلی کا معاملہاپنی اداسیوں کو سنبھالے نکل گیا

اک بار دل میں جاگی نئی آگ کی ہوساک راستہ ندی کے کنارے نکل گیا

کل مجھ کو چھو گیا کوئی جھونکا بہار کاوہ بھی زمانہ آنکھ جھپکتے نکل گیا

توفیق شعر مجھ کو عطا بھی ہوئی تو کبجب عارض عروض سے آگے نکل گیا

— نعمان شوق