5 اشعار

کچھ کو دکان کچھ کو خریدار کر چکے

Kuchh ko dukan kuchh ko khareedar kar chuke

کچھ کو دکان کچھ کو خریدار کر چکےکرنے کے جتنے کام تھے بازار کر چکے

جن کو رہائی ملنی نہ تھی ان کو مل گئیجس جس کو چاہتے تھے گرفتار کر چکے

ملتا نہیں جہاں میں کوئی کام ڈھنگ کااک عشق تھا سو وو بھی کئی بار کر چکے

اتنے تو ہم کبھی بھی نہ تھے سادگی پسندکچھ پھول اپنے رنگ سے بیزار کر چکے

اب کس خدا کو لاؤں گواہی کے واسطےسب فیصلے تو پہلے ہی سرکار کر چکے

— نعمان شوق