7 اشعار

لالچ کچھ اور دو کہ فقط دید کیا کریں

Lalach kuchh aur do keh faqat deed kiya karen

لالچ کچھ اور دو کہ فقط دید کیا کریںکپڑے نئے پہن لیں مگر عید کیا کریں

ہم ہیں شکارگاہ میں عالم پناہ کیعالم پناہ آپ کی تنقید کیا کریں

سورج اگا کے رکھ دیں قلعے کی فصیل پرہر رات اک بیان کی تردید کیا کریں

سامان جاں سمیٹیں کہ اتنا نہیں ہے وقتآندھی کو دور رہنے کی تاکید کیا کریں

میرے نہیں سہی مگر اچھے ہو سب سے تماپنے کہے کی آپ ہی تردید کیا کریں

اب ذکر مت کر ایسی محبت کا میرے یارتھی ہی نہیں سرے سے تو تجدید کیا کریں

کیا کیا نہ گل کھلائے گئے درس گاہ میںبوجہل کے مرید سے امید کیا کریں

— نعمان شوق