7 اشعار

مدت پہ ملی ٹوٹ کے برسات ہماری

Muddat pe mili toot ke barsaat hamari

مدت پہ ملی ٹوٹ کے برسات ہماریپھر عشق مصلے پہ کٹی رات ہماری

اس بار بھی نافہ میں ذرا مشک نہ نکلااس بار بھی بے کار گئی گھات ہماری

ہم مسجد و منبر کی ضرورت سے سوا تھےدیکھی نہیں دنیا نے کرامات ہماری

اس رات تو ہم جسم کے حجرے سے نہ نکلےاس رات ہوئی اتنی مدارات ہماری

اس بار ہے محور ہی کوئی اور زمیں کاسردی ہے نہ گرمی ہے نہ برسات ہماری

حامی نہ بھری عشق کے منشور پہ اس نےبے کار گئی یہ بھی ملاقات ہماری

اللہ کے بندوں کا وہی خوف ہے دل میںاس بار بھی سجدے میں کٹی رات ہماری

— نعمان شوق