6 اشعار

وہ بھولا صبح کا تھا گھر گیا نا

Wo bhoola subah ka tha ghar gaya na

وہ بھولا صبح کا تھا گھر گیا ناذرا سی دیر کر دی پر گیا نا

وہ دشمن تھا قریب آنے تو دیتےبچا تھا ایک ہی پتھر گیا نا

نہیں تھیں اس ندی میں مچھلیاں بھیبہت تنہا تھا پانی مر گیا نا

اسے عادت نہیں تھی زندگی کیمحبت کی نظر سے ڈر گیا نا

تجھے ہی عشق کی جلدی پڑی تھیہمارے آنسوؤں سے بھر گیا نا

بہت گھبرائے پھرتے تھے تمہیں تھےلگا تھا زخم آخر بھر گیا نا

— نعمان شوق