10 اشعار

مجھے کچھ یاد آتا ہے

Mujhe kuch yaad aata hai

تمہارے شہر کو چھوڑے ہوئےاکیس دن

اکیس راتیںاور کچھ پرکار لمحے ہو چکے ہیں

مرے اعمال نامے پر کسی بے جان جذبے کااور ادھورا جسم جلتا ہے

وہاں جب دن نکلتا ہےوہاں جب شام ہوتی ہے

کسی کے وائلن جیسے بدن پرنرم دھوپوں کے نکھرتے سائے

اپنی سرمئی آنکھوں سےدکھ کے راگ گاتے ہیں

وہاں جب رات ہوتی ہےمرے اندھے مشاموں سے

کوئی خوشبو نکل کر پھیل جاتی ہےمحبت کے کسی شفاف لمحے کا منور جسم

مری بے کراں تنہائیوں میںجگمگاتا ہے

مجھے کچھ یاد آتا ہے

— نعمان شوق