7 اشعار

نہیں کہ تب کوئی کاغذ قلم نہ ہوتا تھا

Nahin ke tab koi kaghaz qalam na hota tha

نہیں کہ تب کوئی کاغذ قلم نہ ہوتا تھاوہ حسن ہی تھا قیامت رقم نہ ہوتا تھا

ہر آدمی کو وہاں ملتی اس کے کام کی دادخدا کا نام خدا کی قسم نہ ہوتا تھا

تو کیا سناتا فرشتوں کو میں کلام جہاںکسی کی باتوں میں پہلوئے ذم نہ ہوتا تھا

ذرا سی پی تھی کبھی جاہلوں کے ساتھ شرابنشہ تھا علم کا ایسا کہ کم نہ ہوتا تھا

دو ایک بار تو جیتے بھی کھیل کھیل میں ہممگر ملال ذرا بیش و کم نہ ہوتا تھا

ہمیں ہی مرنا پڑا اپنا حال لکھنے کوکسی کا درد کسی سے رقم نہ ہوتا تھا

بہائے جاتا تھا سیلاب آنسوؤں کا ہمیںکسی کی آنکھ کا کونا بھی نم نہ ہوتا تھا

— نعمان شوق