5 اشعار

وہ اک دریا اور اسے حیرانی ہے

Woh ek darya aur usay hairani hai

وہ اک دریا اور اسے حیرانی ہےمیری پیاس کا مطلب سارا پانی ہے

اب بھی اک تصویر میں ہے وہ ساتھ مرےجس نے اپنی شکل نہیں پہچانی ہے

وقت بہت لگتا ہے آنے جانے میںکہنے کو تو دنیا آنی جانی ہے

اک دشمن کے ساتھ یہاں تک آ پہنچےاور کہاں تک آنکھوں کی ویرانی ہے

اس نے ہنس کر ہاتھ چھڑایا ہے اپناآج جدا ہو جانے میں آسانی ہے

— نعمان شوق