5 اشعار

نئے چراغ کی لو پاؤں سے لپٹتی ہے

Naye chiragh ki lau paaon se lipatti hai

نئے چراغ کی لو پاؤں سے لپٹتی ہےمگر وہ رات کہاں راستے سے ہٹتی ہے

میں خانقاہ بدن سے اداس لوٹ آیایہاں بھی چاہنے والوں میں خاک بٹتی ہے

ذرا سا سچ بھی کسی سے کہا نہیں جاتاذرا سی بات پہ گردن ہماری کٹتی ہے

یہ کس کے پاؤں رکھے ہیں ہوا کے سینے پراگر میں سانس بھی لیتا ہوں عمر گھٹتی ہے

ابھی بہت ہیں اندھیروں کو پوجنے والےیہاں چراغ بجھاؤ تو رات کٹتی ہے

— نعمان شوق