6 اشعار

پتہ سب ہے ستائش اور ہوگی

Pata sab hai sitaish aur hogi

پتہ سب ہے ستائش اور ہوگیمری شہرت کی سازش اور ہوگی

بڑھے گا اور سونا پن زمیں کایہاں جتنی رہائش اور ہوگی

ہمارا ساتھ یوں بھی چھوٹنا تھاابھی تو آزمائش اور ہوگی

تو کیا ہم ہار دل سے مان جائیںنہیں اک بار کوشش اور ہوگی

میں طعنے سن چکا ہوں شہر بھر کےابھی اس کی نوازش اور ہوگی

نہ چھوڑو گے اگر انکار کی لتجو خواہش ہے وہ خواہش اور ہوگی

— نعمان شوق