6 اشعار

قریب آ کہ ارادے لہو کے دیکھتے ہیں

Qareeb aa ke iraday lahu ke dekhte hain

قریب آ کہ ارادے لہو کے دیکھتے ہیںدہکتی آگ کو ہونٹھوں سے چھو کے دیکھتے ہیں

ادھر اگاتی ہے فصلیں ادھر ڈبوتی ہےکرشمے ہم بھی تری آب جو کے دیکھتے ہیں

انہیں ہو پروا ہی کیوں پیار کرنے والوں کیوہ حوصلے تو فقط جنگجو کے دیکھتے ہیں

اک ایک کر کے گھروں کو جلائے جاتا ہےکرشمے روز کسی صلح خو کے دیکھتے ہیں

ذرا سی دھوپ بدن کو گراں گزرتی ہےیہ لوگ خواب مگر رنگ و بو کے دیکھتے ہیں

میں جانتا ہوں اذیت پسند لوگوں کوجو مسکرا کے مناظر لہو کے دیکھتے ہیں

— نعمان شوق