5 اشعار

راستے بھر یہی سوچتے آئے ہیں

Raaste bhar yahi sochte aaye hain

راستے بھر یہی سوچتے آئے ہیںکیسے زندہ یہاں تک چلے آئے ہیں

احمقوں کو یہ جنت پسند آ گئیقید خانے گھروں میں چلے آئے ہیں

آپ ہی چین کی نیند سونے نہ دیںآپ ہی خواب بھی بیچنے آئے ہیں

ہم نے دیکھا ہے اک جھوٹ کے سامنےآئنے ہاتھ جوڑے ہوئے آئے ہیں

تیری روشن خیالی سے بھی کیا ملامیرے حصے میں بجھتے دیے آئے ہیں

— نعمان شوق