6 اشعار

رات لمبی تھی ستارہ مرا تعجیل میں تھا

Raat lambi thi sitara mera ta'jeel mein tha

رات لمبی تھی ستارہ مرا تعجیل میں تھاجس کو جلنا نہیں آیا وہی قندیل میں تھا

اک جہاں اور پس کار جہاں تھا باقیاک بدن اور مرے عشق کی تکمیل میں تھا

پھر سیاہی نے سمیٹا مرا سامان آ کرکل اثاثہ مرا اک شام کی زنبیل میں تھا

ایک لرزہ تھا ستاروں کے بدن پر طاریمیں تو ڈوبا ہوا اک حسن کی تفصیل میں تھا

اب تو ہر چہرہ اسے زرد دکھائی دے گادیر تک آئینہ بیمار کی تحویل میں تھا

جو ملا وہ بڑی عجلت میں ملا تھا مجھ سےاور میں گویا ہمیشہ سے ہی تعطیل میں تھا

— نعمان شوق