6 اشعار

صحرا و شہر سب سے آزاد ہو رہا ہوں

Sehra o shahr sab se azad ho raha hun

صحرا و شہر سب سے آزاد ہو رہا ہوںاپنے کہے کنارے آباد ہو رہا ہوں

یا حسن بڑھ گیا ہے حد سے زیادہ اس کایا میں ہی اپنے فن میں استاد ہو رہا ہوں

اس بار دل کے رستے حملہ کرے گی دنیاسرحد بنا رہا ہوں فولاد ہو رہا ہوں

چالاک کم نہیں ہے محبوب ہے جو میرامیں بھی سنبھل سنبھل کر فرہاد ہو رہا ہوں

روح و بدن برابر لفظوں میں ڈھل رہے ہیںاک تجربے سے میں بھی ایجاد ہو رہا ہوں

تھوڑا بہت مجھے بھی سننے لگی ہے دنیاتیری زباں سے شاید ارشاد ہو رہا ہوں

— نعمان شوق