6 اشعار

سب پھول اٹھا لائے تھے جس دام میں آئے

Sab phool utha laaye the jis daam mein aaye

سب پھول اٹھا لائے تھے جس دام میں آئےصد شکر مرے بھیجے ہوئے کام میں آئے

جوگی کو نئے پھیرے کی فرصت ہی کہاں ابملنا ہو جسے حجرۂ بدنام میں آئے

یہ باغ مناسب ہی نہیں سیر کی خاطرسب زاغ و زغن دیدۂ گلفام میں آئے

فرمان یہ جاری کیا اس نے کہ مرا نامآئے بھی اگر بھول سے دشنام میں آئے

چوم آئے ترے دھوکے میں دہلیز کسی کیکچھ شکل و شباہت بھی در و بام میں آئے

گردش نے زمانے کی تو بس خون نچوڑاراس آئی ہمیں رات نہ دن کام میں آئے

— نعمان شوق