6 اشعار

وہ مٹی کا ستارہ ہے ہمارا

Woh mitti ka sitara hai hamara

وہ مٹی کا ستارہ ہے ہماراتیمم پر گزارہ ہے ہمارا

سخن کا حسن بڑھ جاتا ہے اس سےخموشی استعارہ ہے ہمارا

ادھر کوئی محبت سے نہ دیکھےیہی اک دل بچارہ ہے ہمارا

ہمیں زندہ کیا جائے تو اس پروہی دعویٰ دوبارہ ہے ہمارا

کسی کی دخل اندازی نہیں ہےیہ عشق ایسا ادارہ ہے ہمارا

کئی فرعون ہیں ہم عصر اپنےسمجھ لیجے اشارہ ہے ہمارا

— نعمان شوق