9 اشعار

زمین حسب ضرورت اگائی جاتی ہے

Zameen hasb-e-zarurat ugai jaati hai

زمین حسب ضرورت اگائی جاتی ہےپھر ایک سانچے میں خلقت بنائی جاتی ہے

خبر میں ہیں جو کئی زر خرید قصہ گوہمیں انہیں کی کہانی سنائی جاتی ہے

ہماری بزم میں جلتے نہیں چراغ کے ساتھیہاں چراغ کی دہشت جلائی جاتی ہے

تمام رات کا جاگا ہوں معذرت مرے دوستبرا نہ مان اگر نیند آئی جاتی ہے

ہمارے جام میں الزام کے سوا نہیں کچھہمیں شراب کی تہمت پلائی جاتی ہے

میں خود سے جنگ کا اعلان کرنے والا ہوںجو ہاری جاتی نہیں ہے ہرائی جاتی ہے

ہمارے عہد کا سرمایہ ہیں یہ طالب علمانہیں کتاب سے نفرت سکھائی جاتی ہے

زمین پر ہے تمام اندھے عاشقوں کا ہجومیہاں وفا بھی نہیں آزمائی جاتی ہے

یہ کیسے خواب کی تکمیل میں لگا ہے جہاںکہ زہر دے کے محبت سلائی جاتی ہے

— نعمان شوق