5 اشعار

تمہارے رنگ کی بھی کیا کوئی زنجیر ملتی ہے

Tumhare rang ki bhi kya koi zanjeer milti hai

تمہارے رنگ کی بھی کیا کوئی زنجیر ملتی ہےنظر چاہے جدھر جائے بس اک تصویر ملتی ہے

یہ کون احمق بناتا ہے نئی دنیا کے منصوبےیہاں انسان تو ملتے نہیں تعمیر ملتی ہے

ترازو کے یہ بازو جانے کس کے کام آئیں گےہمیں انصاف کب ملتا ہے بس تقریر ملتی ہے

اسی در پر چلے جاؤ جہاں سجدے میں تھے کل راتدوائیں بھی وہیں سے لو جہاں تاثیر ملتی ہے

بہت آگے نکل جانا نہیں خوابوں کی مستی میںکہ آنکھیں کھولتے ہی پاؤں میں زنجیر ملتی ہے

— نعمان شوق