11 اشعار

آ گیا پھر رمضاں کیا ہوگا

Aa gaya phir Ramzan kya hoga

آ گیا پھر رمضاں کیا ہوگا

«آ گیا پھر رمضاں کیا ہوگا» نظم طباطبائی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 24 سیکنڈ ہے۔

آ گیا پھر رمضاں کیا ہوگاہائے اے پیر مغاں کیا ہوگا

باغ جنت میں سماں کیا ہوگاتو نہیں جب تو وہاں کیا ہوگا

خوش وہ ہوتا ہے مرے نالوں سےاور انداز فغاں کیا ہوگا

دور کی راہ ہے ساماں ہیں بڑےاتنی مہلت ہے کہاں کیا ہوگا

دیکھ لو رنگ پریدہ کو مرےدل جلے گا تو دھواں کیا ہوگا

ہوگا بس ایک نگہ میں جو تماموہ بہ حسرت نگراں کیا ہوگا

ہم نے مانا کہ ملا ملک جہاںنہ رہے ہم تو جہاں کیا ہوگا

مر کے جب خاک میں ملنا ٹھہراپھر یہ تربت کا نشاں کیا ہوگا

جس طرح دل ہوا ٹکڑے از خودچاک اس طرح کتاں کیا ہوگا

یا ترا ذکر ہے یا نام ترااور پھر ورد زباں کیا ہوگا

عشق سے باز نہ آنا حیدرؔراز ہونے دے عیاں کیا ہوگا

— نظم طباطبائی