15 اشعار

آ کے مجھ تک کشتیٔ مے ساقیا الٹی پھری

Aa ke mujh tak kashti-e-may saqiya ulati phiri

آ کے مجھ تک کشتیٔ مے ساقیا الٹی پھری

«آ کے مجھ تک کشتیٔ مے ساقیا الٹی پھری» نظم طباطبائی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

آ کے مجھ تک کشتیٔ مے ساقیا الٹی پھریآج کیا ندی بہی الٹی ہوا الٹی پھری

آتے آتے لب پر آہ نارسا الٹی پھریوہ بھی میرا ہی دبانے کو گلا الٹی پھری

مڑ کے دیکھا اس نے اور وار ابرووں کا چل گیااک چھری سیدھی پھری اور اک ذرا الٹی پھری

لا سکا نظارۂ رخسار روشن کی نہ تابجا کے آئینہ پہ چہرہ کی ضیا الٹی پھری

راست بازوں ہی کو پیسا آسماں نے رات دنوائے قسمت جب پھری یہ آسیا الٹی پھری

جو بڑا بول ایک دن بولے تھے پیش آیا وہیگنبد گردوں سے ٹکرا کر صدا الٹی پھری

رزق کھا کر غیر کی قسمت کا زنبور عسلتو نے دیکھا حلق تک جا کر غذا الٹی پھری

تو ستائش گر ہے اس کا جو ہے تیرا مدح خواںیہ تو اے مشفق ضمیر مرحبا الٹی پھری

جس پر آئی تھی طبیعت کی اسی نے کچھ نہ قدرجنس دل مانند جنس ناروا الٹی پھری

یا تو کشی ڈوبتی تھی یا چلی ساحل سے دوروائے ناکامی پھری بھی تو ہوا الٹی پھری

گرنے والا ہے کسی دشمن پہ کیا تیر شہابآسماں تک جا کے کیوں آہ رسا الٹی پھری

جی گیا میں اس کے آ جانے سے دشمن مر گیادیکھ کر عیسیٰ کو بالیں پر قضا الٹی پھری

مر گیا بے موت میں آخر اجل بھی دور ہےکوچۂ قاتل کا بتلا کر پتا الٹی پھری

ہجر کی شب مجھ کو الٹی سانس لیتے دیکھ کرایک ہی دم میں وہاں جا کر صبا الٹی پھری

ہے مرا ویرانۂ غم نظمؔ ایسا ہولناکموج سیل آئی تو لے کر بوریا الٹی پھری

— نظم طباطبائی