15 اشعار

سنگ جفا کا غم نہیں دست طلب کا ڈر نہیں

Sang-e-jafa ka gham nahin dast-e-talab ka dar nahin

سنگ جفا کا غم نہیں دست طلب کا ڈر نہیں

«سنگ جفا کا غم نہیں دست طلب کا ڈر نہیں» نظم طباطبائی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 35 سیکنڈ ہے۔

سنگ جفا کا غم نہیں دست طلب کا ڈر نہیںاپنا ہے اس پر آشیاں نخل جو بارور نہیں

سنتے ہو اہل قافلہ میں کوئی راہ بر نہیںدیکھ رہا ہوں تم میں سے ایک بھی راہ پر نہیں

موت کا گھر ہے آسماں اس سے کہیں مفر نہیںنکلیں تو کوئی در نہیں بھاگیں تو رہ گزر نہیں

پہلے جگر پر آہ کا نام نہ تھا نشاں نہ تھاآخر کار یہ ہوا آہ تو ہے جگر نہیں

صبح ازل سے تا ابد قصہ نہ ہوگا یہ تمامجور فلک کی داستاں ایسی بھی مختصر نہیں

برگ خزاں رسیدہ ہوں چھیڑ نہ مجھ کو اے نسیمذوق فغاں کا ہے مجھے شکوۂ ابر تر نہیں

منکر حشر ہے کدھر دیکھے تو آنکھ کھول کرحشر کی جو خبر نہ دے ایسی کوئی سحر نہیں

شبنم و گل کو دیکھ کر وجد نہ آئے کس طرحخندہ بے سبب نہیں گریہ بے اثر نہیں

تیرے فقیر کا غرور تاجوروں سے ہے سواطرف کلہ میں دے شکن اس کو یہ درد سر نہیں

کوشک و قصر و بام و در تو نے بنا کئے تو کیاحیف ہے خانماں خراب دل میں کسی کے گھیر نہیں

نالہ کشی رقیب سے میری طرح محال ہےدل نہیں حوصلہ نہیں زہرہ نہیں جگر نہیں

شاطر پیر آسماں واہ ری تیری دست بردخسرو و کیقباد کی تیغ نہیں کمر نہیں

شان کریم کی یہ ہے ہاں سے ہو پیشتر عطالطف عطا کا کیا ہو جب ہاں سے ہو پیشتر نہیں

لاکھ وہ بے رخی کرے لاکھ وہ کج روی کرےکچھ تو ملال اس کا ہو دل کو مرے مگر نہیں

سن کے برا نہ مانئے سچ کو نہ جھوٹ جانئےذکر ہے کچھ گلہ نہیں بات ہے نیشتر نہیں

— نظم طباطبائی