12 اشعار

آدمی کی تلاش

Aadmi Ki Talaash

آدمی کی تلاش

«آدمی کی تلاش» ندا فاضلی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 40 سیکنڈ ہے۔

ابھی مرا نہیں زندہ ہے آدمی شایدیہیں کہیں اسے ڈھونڈو یہیں کہیں ہوگا

بدن کی اندھی گپھا میں چھپا ہوا ہوگابڑھا کے ہاتھ

ہر اک روشنی کو گل کر دوہوائیں تیز ہیں جھنڈے لپیٹ کر رکھ دو

جو ہو سکے تو ان آنکھوں پہ پٹیاں کس دونہ کوئی پاؤں کی آہٹ

نہ سانسوں کی آوازڈرا ہوا ہے وہ

کچھ اور بھی نہ ڈر جائےبدن کی اندھی گپھا سے نہ کوچ کر جائے

یہیں کہیں اسے ڈھونڈووہ آج صدیوں بعد

اداس اداس ہےخاموش ہے

اکیلا ہےنہ جانے کب کوئی پسلی پھڑک اٹھے اس کی

یہیں کہیں اسے ڈھونڈو یہیں کہیں ہوگابرہنہ ہو تو اسے پھر لباس پہنا دو

اندھیری آنکھوں میں سورج کی آگ دہکا دوبہت بڑی ہے یہ بستی کہیں بھی دفنا دو

ابھی مرا نہیںزندہ ہے آدمی شاید

— ندا فاضلی