6 اشعار

آئے گا کوئی چل کے خزاں سے بہار میں

Aayega koi chal ke khazan se bahar mein

آئے گا کوئی چل کے خزاں سے بہار میں

«آئے گا کوئی چل کے خزاں سے بہار میں» ندا فاضلی کا کلام ہے، جسے آبدار خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « ہوش والوں کو خبر کیا بےخودی کیا چیز ہے ندا فاضلی» میں 2 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 49 سیکنڈ ہے۔

آئے گا کوئی چل کے خزاں سے بہار میںصدیاں گزر گئی ہیں اسی انتظار میں

چھڑتے ہی ساز بزم میں کوئی نہ تھا کہیںوہ کون تھا جو بول رہا تھا ستار میں

یہ اور بات ہے کوئی مہکے کوئی چبھےگلشن تو جتنا گل میں ہے اتنا ہے خار میں

اپنی طرح سے دنیا بدلنے کے واسطےمیرا ہی ایک گھر ہے مرے اختیار میں

تشنہ لبی نے ریت کو دریا بنا دیاپانی کہاں تھا ورنہ کسی ریگ زار میں

مصروف گورکن کو بھی شاید پتہ نہیںوہ خود کھڑا ہوا ہے قضا کی قطار میں

— ندا فاضلی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں