6 اشعار

اپنی مرضی سے کہاں اپنے سفر کے ہم ہیں

Apni marzi se kahan apne safar ke hum hain

اپنی مرضی سے کہاں اپنے سفر کے ہم ہیں

«اپنی مرضی سے کہاں اپنے سفر کے ہم ہیں» ندا فاضلی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

اپنی مرضی سے کہاں اپنے سفر کے ہم ہیںرخ ہواؤں کا جدھر کا ہے ادھر کے ہم ہیں

پہلے ہر چیز تھی اپنی مگر اب لگتا ہےاپنے ہی گھر میں کسی دوسرے گھر کے ہم ہیں

وقت کے ساتھ ہے مٹی کا سفر صدیوں سےکس کو معلوم کہاں کے ہیں کدھر کے ہم ہیں

چلتے رہتے ہیں کہ چلنا ہے مسافر کا نصیبسوچتے رہتے ہیں کس راہ گزر کے ہم ہیں

ہم وہاں ہیں جہاں کچھ بھی نہیں رستہ نہ دیاراپنے ہی کھوئے ہوئے شام و سحر کے ہم ہیں

گنتیوں میں ہی گنے جاتے ہیں ہر دور میں ہمہر قلم کار کی بے نام خبر کے ہم ہیں

— ندا فاضلی