6 اشعار

اپنا غم لے کے کہیں اور نہ جایا جائے

Apna gham le ke kahin aur na jaaya jaaye

اپنا غم لے کے کہیں اور نہ جایا جائے

«اپنا غم لے کے کہیں اور نہ جایا جائے» ندا فاضلی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « ہوش والوں کو خبر کیا بےخودی کیا چیز ہے ندا فاضلی» میں 2 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 45 سیکنڈ ہے۔

اپنا غم لے کے کہیں اور نہ جایا جائےگھر میں بکھری ہوئی چیزوں کو سجایا جائے

جن چراغوں کو ہواؤں کا کوئی خوف نہیںان چراغوں کو ہواؤں سے بچایا جائے

خود کشی کرنے کی ہمت نہیں ہوتی سب میںاور کچھ دن ابھی اوروں کو ستایا جائے

باغ میں جانے کے آداب ہوا کرتے ہیںکسی تتلی کو نہ پھولوں سے اڑایا جائے

کیا ہوا شہر کو کچھ بھی تو دکھائی دے کہیںیوں کیا جائے کبھی خود کو رلایا جائے

گھر سے مسجد ہے بہت دور چلو یوں کر لیںکسی روتے ہوئے بچے کو ہنسایا جائے

— ندا فاضلی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں