5 اشعار

بے نام سا یہ درد ٹھہر کیوں نہیں جاتا

Be-naam sa ye dard thahar kyon nahin jaata

بے نام سا یہ درد ٹھہر کیوں نہیں جاتا

«بے نام سا یہ درد ٹھہر کیوں نہیں جاتا» ندا فاضلی کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « ہوش والوں کو خبر کیا بےخودی کیا چیز ہے ندا فاضلی» میں 2 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 37 سیکنڈ ہے۔

بے نام سا یہ درد ٹھہر کیوں نہیں جاتاجو بیت گیا ہے وہ گزر کیوں نہیں جاتا

سب کچھ تو ہے کیا ڈھونڈھتی رہتی ہیں نگاہیںکیا بات ہے میں وقت پے گھر کیوں نہیں جاتا

وہ ایک ہی چہرہ تو نہیں سارے جہاں میںجو دور ہے وہ دل سے اتر کیوں نہیں جاتا

میں اپنی ہی الجھی ہوئی راہوں کا تماشہجاتے ہیں جدھر سب میں ادھر کیوں نہیں جاتا

وہ خواب جو برسوں سے نہ چہرہ نہ بدن ہےوہ خواب ہواؤں میں بکھر کیوں نہیں جاتا

— ندا فاضلی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں