6 اشعار

بلا وہ ٹل گئی صدقے میں جس کے شہر چڑھے

Bala woh tal gayi sadqe mein jis ke shahr chadhe

بلا وہ ٹل گئی صدقے میں جس کے شہر چڑھے

«بلا وہ ٹل گئی صدقے میں جس کے شہر چڑھے» ندا فاضلی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

بلا وہ ٹل گئی صدقے میں جس کے شہر چڑھےہمیں ڈبو کے نہ اب کوئی خونی نہر چڑھے

بڑھا جو میں تھکے قدموں نے بد دعا یہ دیقدم قدم تجھے پگڈنڈیوں کا زہر چڑھے

وہی ملن کا سماں اس سے مانجھیو ہوگاندی میں چاند کی جب ناؤ لہر لہر چڑھے

خدا کرے ترا تن من رہے یوںہی اجلانہ تیرے گاؤں پہ گرد ہوائے شہر چڑھے

ڈھکوں بدن تو گئے موسموں کی بو مہکےبدن کو کھولوں تو بھیگی رتوں کا زہر چڑھے

بنا وہ چاند مصور تو اس پہ قید لگینہ اب مکانوں کی چھت پر وہ جان دہر چڑھے

— ندا فاضلی